کتاب: آداب دعا - صفحہ 98
لیکن دعاء اور مغفرت والا یہ اثر سند کے اعتبار سے ضعیف اور ناقابلِ استدلال ہے ۔[1] اس اثر کے بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے اور نہ ہی کسی صحابہ کا اثر بلکہ یہ تابعی کا قول ہے اور چونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی کا واسطہ مذکورہ ہی نہیں اور اس طرح کی دعاؤںکی قبولیّت اور مغفرت و بخشش کا پتہ دینے والے غیبی امور کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا کوئی خبر دینا صحیح نہیں ہوسکتا ۔ لہٰذا قبولیّتِ دعاء اور مغفرت و بخشش والی بات تو صحیح نہیں البتہ میزاب کے نیچے نماز پڑھنا چونکہ حطیم و بیت اللہ میں نماز پڑھنا ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملِ مبارک سے صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں داخل ہوکر نماز پڑھی تھی ۔ [2] (۲،۳) … صفا و مروہ پہاڑیوں پر : صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ((أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي ا للّٰه عليه وسلم أَتَی الصَّفَا حَتّٰی نَظَرَ اِلَی الْبَیْتِ وَ رَفَعَ یَدَیْہِ وَ جَعَلَ یَحْمِدُ اللّٰہَ وَ یَدْعُوْہُ مَا شَآئَ اللّٰہُ أَنْ یَّدْعُوْہُ))۔ [3] ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھتے گئے حتیٰ کہ بیت اللہ شریف نظر آنے لگا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر جو اللہ کو منظور ہوا وہ دعائیں کیں۔‘‘ اور مروہ پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صفا کی طرح ہی دعائیں اور اذکار کرنا صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے [4] [1] مثیر الغرام ابن الجوزی ص: ۲۶۹ ۔ [2] تفصیل کیلئے دیکھیٔے ہماری کتاب ’’مقاماتِ نماز‘‘ آخری موضوع ۔ [3] صحیح مسلم بحوالہ صحیح الاذکار:۵۸ ۔ [4] حوالہ سابقہ ۔