کتاب: آداب دعا - صفحہ 93
مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((لَا تَزُوْلُ قَدَمَا اِبْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدَ رَبِّہٖ حَتَّیٰ یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَ أَفْنَاہُ؟ وَ عَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَ أَبْلَاہُ؟ وَ عَنْ مَالِہٖ مِنْ أَیْنَ اِکْتَسَبَہٗ وَ فِیْمَ اَ نْفَقَہٗ؟ وَ مَاذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ؟)) ۔ [1] ’’ قیامت کے دن کوئی شخص اپنے رب کے حضور سے پاؤں نہیں ہلا سکے گا جب تک کہ اُس سے پانچ چیزوں کے بارے میں باز پُرس نہ کر لی جائے گی :اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے اس نے کہاں فنا کیا ؟ اسکی جوانی کے بارے میں کہ وہ اس نے کہاں برباد کی ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ وہ اس نے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ اور جو علم حاصل کیا ، اس پر کتنا عمل کیا ؟ ۔‘‘ جبکہ ترمذی میں ہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں چار چیزوں کا ذکر ہے جو کہ یہ ہیں: ((عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَ أَفْنَاہُ؟ وَ عَنْ عِلْمِہٖ مَا فَعَلَ فِیْہِ؟ وَ عَنْ مَالِہٖ مِنْ أَیْنَ اِکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَ أَنْفَقَہٗ؟ وَ عَنْ جِسْمِہٖ فِیْمَ أَبْلَاہُ؟))۔[2] ’’اُس کی عمر کے بارے میں کہ اُسے اس نے کہاں فنا کیا ؟ اُس کے علم کے [1] صحیح الجامع ۲؍۱۲۲۰، الصحیحہ :۹۴۶ ۔ [2] حوالہ سابقہ ۔