کتاب: آداب دعا - صفحہ 89
مروی ہے ،اس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ اِلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : اَلْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ وَ الْمَرْأَۃُ الْمُتَرَجِّلَۃُ الْمُتَشَبِّہَۃُ بِالرِّجَالِ وَ الدَّیُّوْثُ))۔ [1] ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کی طرف نظرِ کرم نہیں فرمائے گا : والدین کا نا فرمان ، مردوں سے مشابہت رکھنے والی مردانہ چال ڈھال والی عورت اور دیّوث۔‘‘ ہاں اگر کسی کے پلّے ایسی کوئی عورت پڑگئی اور اسکے سمجھانے بجھانے سے اس نے سچّی توبہ کرلی اور آئندہ ایسی تمام حرکات ترک کر دیں تو اللہ غفورٌ رّحیم ہے، وہ سابقہ گناہوں کو معاف کر دے گا ۔ لہٰذا ایسی تائب عورت کو طلاق دینے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ آدمی دیّوث شمار ہوگا۔دیّوث تو تب ہے کہ بیوی میں بد اخلاقی و بد کرداری دیکھے اور اس کی اصلاح کی بھر پور کوشش ہی نہ کرے بلکہ اسکی اُس حالت پر رضا مند ہو یا کم از کم اس کی اصلاح کی کوشش نہ کرے۔ (۶) …مالی معاملات میں لا پرواہی برتنے والا : جن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ان میں سے چھٹا شخص وہ ہے جو مالی معاملات میں لا پرواہی برتتا ہے یعنی کسی کو قرض دیا یا لیا مگر نہ کسی کو گواہ بناتا ہے نہ تحریر کرتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مال ضائع ہونے یا لڑائی جھگڑا پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ اللہ کو ناپسند ہے اور اس کے حکم کی خلاف ورزی بھی ،کیونکہ سورۃ البقرہ کی طویل ترین آیت :۲۸۲[آیَۃُ الدَّیْنِ] میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : { یَآ أَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلیٰ أَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ…} [1] صحیح الجامع ۱؍۵۸۹، الصحیحہ:۶۷۴