کتاب: آداب دعا - صفحہ 85
(۱۱)… اپنے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کیلئے دعاء کرنے والے مسلمان کی دعاء: صحیح مسلم، ابو داؤد، ابن ماجہ اور مسند احمدمیں حضرت ابودردآء رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((دَعوْۃُ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ لِأَخِیْہ بِظَہْرِ الْغَـیْبِ مُسْتَجَـابَۃٌ ، عِـْنَد رَأْسِـٖہ مَـلَکٌ مُؤَکَّلٌ، کُلَّمَا دَعَا لأَِخِیْہِ بِخَیْرٍ قَالَ الْمَلَکُ الْمُؤَکَّلُ بِہٖ آمِیْنَ وَ لَکَ بِمَثَلٍ)) [1] ’’ مسلمان آدمی کی اپنے بھائی کیلئے غائبانہ دعاء جلدی قبول ہوتی ہے ۔ اس کے پاس فرشتہ مقرّر ہوتا ہے۔ جب بھی وہ اپنے بھائی کیلئے بھلائی کی دعاء کرتا ہے تو وہ مؤکّل فرشتہ آمین کہتا ہے۔ اور یہ بھی کہتا ہے کہ تیرے لیٔے بھی ایسا ہی ہو ۔‘‘ (۱۲)… آذان کا جواب دے کر دعاء مانگنے والے کی دعاء : ابو داؤد اور صحیح ابنِ حبان میں حضرت عبد اللہ بن عَمرورضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا :اے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! آذان کہنے والے ہم سے فضیلت لے جائیں گے ،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((قُلْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ فَاِذَا انْتَہَیْتَ فَسَلْ تُعْطَ))۔ [2] ’’ جِس طرح وہ[یعنی مؤذّن] کہتے ہیں تو بھی کہہ۔ جب تو فارغ ہو تو اس وقت اللہ تعالیٰ سے (دعاء )مانگ ،(تو جو مانگے گا)تجھے دیا جائے گا ۔‘‘ [1] مختصر مسلم:۱۸۸۲ و مع النووی ۱۷؍۵۰، الصحیحہ ۳؍۳۲۶۔۳۲۷، جامع الاصول ۴؍۱۴۶، صحیح الجامع ۱؍۶۳۷ [2] مشکوٰۃ ۱؍۲۱۳ شیخ البانی نے اسکی سند کو حسن قرار دیا ہے ۔