کتاب: آداب دعا - صفحہ 84
سورۃ الانبیاء کی آیت: ۸۷ یعنی حضرت یونس علیہ السلام والی آیتِ کریمہ پڑھ کر دعاء کرے اور وہ آیت یہ ہے : { لَا اِلـٰہَ اِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ } ’’تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، تو پاک ہے اور میں قصور وار ہوں۔‘‘ اس سلسلہ میں ترمذی ، مسند احمد اور مستدرک حاکم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ذو النون [یونس علیہ السلام ] کی دعاء جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی … جب بھی کوئی مسلمان اپنی کسی ضرورت کیلئے اسکے ساتھ دعاء کرتا ہے تو اس کی دعاء قبول کی جاتی ہے ۔‘‘[1] (۱۰،۹) …حاکمِ عادل کی دعاء اللہ کا کثرت سے ذِکر کرنے والے کی دعاء : شُعب الایمان بیہقی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ((ثَلاَثَۃٌ لَا تُرَدُّّ دُعَائُ ہُمْ : الذَّاکِرُ اللّٰہَ کَثِیْراً، وَ الْمَظْلُوْمُ، وَ الْاِمَامُ الْمُقْسِطُ)) [2] ’’ تین آدمیوں کی دعائیں ردّ نہیں کی جاتیں :اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے کی اور مظلوم کی، اور عدل وانصاف کرنے والے حاکم کی ۔‘‘ [1] ترمذی ، مسند احمد ، مستدرک حاکم [2] صحیح الجامع ۱؍۵۸۷، الصحیحہ ۳؍۲۱۱ ۔