کتاب: آداب دعا - صفحہ 82
عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ فرمایا تو اُن سے کہا : ((اِتَّقِ دَعْـَوۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہَا لَیْسَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ اللّٰــہِ حِجَابٌ)) [1] ’’ مظلوم کی بد دعاء سے ڈرو کیونکہ اس میں اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ و پردہ نہیں ہوتا۔‘‘ (۴)… مسافر کی دعاء : الادب المفرد امام بخاری ،ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’مسافر کی دعاء کی قبولیّت میں بھی کوئی شک نہیں۔‘‘ (یعنی مسافر کی دعاء بہت جلد قبول ہوتی ہے)۔ [2] (۵)… روزہ دار کی دعاء : الاحادیث المختارہ للضیاء اور بیہقی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ((ثَلَاثُ دَعْوَاتٍ لَا تُرَدُّ لَہُنَّ : دَعْوَۃُ الْوَالِدِ لِوَلَدِہٖ وَ دَعْوَۃُ الصَّائِمِ وَ دَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ))۔ [3] ’’تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ ردّ نہیں کی جاتیں: والدین کی دعاء اولاد کیلئے ، روزہ دار کی دعاء،اور مسافر کی دعاء۔‘‘ [1] جامع الاصول فی احادیث الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ۴؍۱۴۲ ۔ [2] صحیح الجامع۱؍۵۸۲، صحیح ابی داؤد ۱؍۲۸۶ ۔ [3] صحیح الجامع ۱؍۵۸۲، سلسلہ الاحادیث الصحیحہ ۴؍۴۰۶