کتاب: آداب دعا - صفحہ 81
جس سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے ، اور اس کی وہ نیک اولاد جو اس کے لیٔے دعائیں کرتی رہے ‘‘ ابن ماجہ ، مسند احمد اور مسند بزّارمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے درجات کو بلند کرتا رہتا ہے ،اور جب انسان اللہ سے پوچھتا ہے کہ میرے درجات کیوں بلند ہوتے جارہے ہیں حالانکہ میرے اعمال تو ایسے نہیں؟ اس پر اللہ فرماتا ہے: ’’تیری اولاد کی دعاؤں کے ساتھ ۔‘‘[1] (۳)… مظلوم و مجبور کی دعاء : سورۃ النمل ،آیت: ۶۳ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { أَمَّنْ یُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْئَ }۔ ’’بھلا کون مجبور و بے قرار کی التجاء کو قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعاء کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے ۔‘‘ ابن ماجہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ’’ مظلوم آدمی کی دعاء کبھی ردّ نہیں کی جاتی ۔‘‘[2] ابو داؤد و ترمذی اور بعض دیگر کتب میں حدیث ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ جن آدمیوں کی دُعاء کی قبولیّت میں کوئی شک نہیں ، ان میں سے ایک مظلوم کی دعاء ہے ۔‘‘[3] اورصحیح بخاری و مسلم،ابو داؤد،ترمذی اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن [1] ابن ماجہ، مسند احمد ، مسند بزار ۔ [2] صحیح ابن ماجہ ۲؍ ۳۳۱، الصحیحہ : ۵۹۶ ۔ [3] صحیح ابی داؤد ۱؍۳۸۶ ۔