کتاب: آداب دعا - صفحہ 76
فِیْمَنْ عِنْدَہٗ))۔ [1] ’’ جب کوئی قوم کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتی ہے تو فرشتے انہیں (اُس اجتماع کو ) ڈھانپ لیتے ہیں اور اُن پر رحمتِ الہٰی سایہ فگن ہوجاتی ہے اور ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے۔ اور اللہ اُن کا ذکر اپنے پاس والی مخلوقات [فرشتوں] میں کرتا ہے ‘‘ (۱۸)… عرفہ کے دن : دعاؤں کی قبولیّت کا اٹھارہواں موقع یومِ عرفہ ہے کیونکہ ۹/ ذو الحجہ نہایت مبارک و مخصوص دن ہے، ترمذی میں حضرت ابنِ عمررضی اللہ عنہما سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ’’ بہترین دعاء یومِ عرفہ کی دعاء ہے اور بہترین ذکر ودعاء جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیاء نے کی ہے وہ یہ ہے : ’’ لَا ٓاِلـٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ ‘‘[2] ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اُسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرفہ کے دن ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے سوال کر رہا ہے تو انہوں نے اس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : ((یَا عَاجِزُ ! فِیْ ہَذَا الْیَوْمِ تَسْأَلُ غَیْرَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ))۔ [3] ’’ اے بے ہمّت انسان ! تم آج بھی غیرُ اللہ سے مانگ رہے ہو ۔‘‘ [1] صحیح مسلمبحوالہ صحیح الاذکار، ص:۵۷ ۔ [2] مشکوٰۃ ۲؍۷۹۷ شیخ البانی نے شاہد کی بناء پر اسے حسن قرار دیا ہے ۔ [3] الاذکار النوویہ، ص:۱۴۷ ۔