کتاب: آداب دعا - صفحہ 75
والی دعاء ہے ۔اور یہ نظریہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ہم خیال علماء کا ہے-[1] اور اگر پہلے عام معنیٰ کو بھی لیا جائے جبکہ ُنزُلُ الابرار میں اُسے ہی ترجیح دی گئی ہے تو اُس وقت بھی نمازی کو محض انفرادی طور پر ہی دعاء کرنی چاہیٔے کیونکہ فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر امام و مقتدی کا اجتماعی طور پر دعاء کرنے کا التزام و پابندی اور باقاعدگی کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم او رآئمہ دین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ہے لہذا اس انداز سے اجتناب و گریز کرنا چاہیٔے ۔ (۱۶)… تلاوتِ قرآن کے بعد : مسند احمد و ترمذی میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْیَسْأَلِ اللّٰہَ بِہٖ، فَاِنَّہٗ سَیَجِیُٔ أَقْوَامٌ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ یَسْأَلُوْنَ بِہٖ النَّاسَ))۔ [2] ’’ جب قرآن پڑھو تو اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگو، کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کریں گے ‘‘ ۔ (۱۷)… مسلمانوں کے دینی اجتماع کے دوران : صحیح مسلم میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ((لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا حَفَّتْہُمُ الْمَلٓائِکَۃُ وَ غَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ وَ نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِیْنَۃُ وَ ذَکَرَہُمُ اللّٰہُ [1] دیکھیٔے : زاد المعاد ابن قیم ۱؍۲۴۹، اس موضوع پر مولانا حکیم عماد الدین [کوئٹہ] کی کتاب ’’ التحقیق الحسن فی نفی الدعاء الاجتماعی بعد الفرائض و السنن ‘‘ ایک مفید کوشش ہے۔ فجزاہ اللہ خیراً ۔اور اسی موضوع پر ایک رسالہ مولانا ظفر الحسن مدنی (شارجہ) کا بھی ہے۔ [2] سلسلہ الاحادیث الصحیحہ ۱؍۴۶۱ ۔