کتاب: آداب دعا - صفحہ 68
ابو داؤدو مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ((ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ : الدُّعَآئُ عِنْدَ النِّدَآئِ وَ وَقْتَ الْمَطَرِ وَ عِنْدَ الْبَأْسِ حِیْنَ یُلْحِمُ بَعْضُہُمْ بَعْضاً ))۔ [1] ’’ د و وقتوں میں دعاء ردّ نہیں کی جاتی : آذان کے وقت اور بارش کے دوران اور گُھمسان کی جنگ میں جب کہ دشمن سے گُتّھم گُتّھا ہوا جائے۔‘‘ جبکہ ابو یعلیٰ ، طیالسی اور المختارۃ للضیاء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے : ((اِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَوٰۃِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَآئِ، وَ أُسْتُجِیْبَ الدُّعَآئُ)) [2] ’’ جب نماز کیلئے آذان دی جائے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعاء قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ (۷)… نماز کی تکبیر [اقامت] کے وقت : مسند شافعی اور معرفۃ السنن و الآثار بیہقی میں مکحول سے مرسلاً مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((اُطْلُبُوْا اِسْتِجَابَۃَ الدُّعَائِ عِنْدَ اِلْتِقَائِ الْجُیُوْشِ، وَ اِقَامَۃِ الصَّلوٰۃِ، وَ نُزُوْلِ الْغَیْثِ))۔ [3] ’’ اللہ تعالیٰ سے گُھمسان کی لڑائی کے دوران اور نماز کی اقامت کے وقت اور دورانِ بارش دعاء کریں قبول ہوتی ہے ۔‘‘ [1] صحیح الجامع ۱؍۵۹۰ ، الصحیحہ :۱۴۶۹، صحیح الترغیب: ۲۶۲ ۔ [2] صحیح الجامع ۱؍۲۰۳، الصحیحہ: ۱۴۱۳ [3] صحیح الجامع۱؍۲۳۵ ،شواہد کے ساتھ حسن کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے ، الصحیحہ: ۱۴۶۹ ۔