کتاب: آداب دعا - صفحہ 66
روزی مانگے اور میں اسے روزی دوں۔ کوئی ہے جو مجھ سے گناہوں کی معافی مانگے؟ اور میں اس کے گناہ معاف کروں ۔‘‘ ایک دوسری روایت حضرت عَمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ سے سنن نسائی،ترمذی، صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں مروی ہے جس میں ہے کہ رحمۃٌ لّلعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہٖ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ الْآخِرِ، فَاِنِ اسَتَطَعْتَ أَنْ تَکُوْنَ مِمَّنْ یَّذْکُرُ اللّٰہَ تِلْکَ السَّاعَۃِ فَکُنْ))۔ [1] ’’ رات کے آخری حصّہ میں اللہ تعالیٰ بندے کے قریب ترہوتا ہے ۔ اگر تم میں ہمّت ہو کہ تم اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے شمار ہو سکو تو [اُس وقت ذکر کرکے ] اُن میں سے ہوجاؤ ۔‘‘ (۵) … رات کو اچانک بیداری کے وقت : رات کو کوئی شخص اچانک نیند سے بیدار ہوجائے تو ایسے میں مانگی گئی دعاء کو بھی اللہ قبول فرماتا ہے چنانچہ ابو داؤد ، ابن ماجہ، مسند احمد اور طیالسی میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَبِیْتُ عَلیٰ ذِکْرٍ طَاہِراً، فَیَتَعَارُّ مِنَ اللَّیْلِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ تَعَالیٰ خَیْراً مِّنْ أَمْرِ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاُہ))۔ [2] [1] رواہ الترمذی،صحیح الجامع۱؍۲۵۹، مشکوٰۃ: ۱۲۲۹، صحیح الاذکار،ص: ۷۳ [2] صحیح الجامع ۲؍۱۰۰۳، صحیح الترغیب:۵۹۷، مشکوٰۃ :۱۲۱۵ ۔