کتاب: آداب دعا - صفحہ 65
’’ آدھی رات کو آسمانوں کے دروازے کُھلتے ہیں، اور ایک منادی کرنے والا اعلان کرتا ہے : کیا کوئی دعاء کرنے ولا ہے کہ اس کی دعاء قبول کی جائے؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اسے عطاء کیا جائے ؟کیا کوئی مبتلائے کرب وبلا ہے کہ اس کی مشکل آسان کی جائے ؟کوئی مسلمان ایسا باقی نہ رہے گا کہ جو دعاء کرے اور اس کی دعاء قبول نہ ہو ،سوائے زانی عورت کے جو اپنی شرمگاہ سے دھندا کرتی ہے یا پھر جو مسلمانوں سے دس فیصدی (جبری غنڈہ ٹیکس) وصول کرتا ہے ‘ ‘ ۔ (۴) … رات کا آخری تہائی حِصّہ : قبولیّتِ دعاء و مناجات کا چوتھا وقت رات کا آخری تہائی حصّہ ہے اور رات غروبِ آفتاب سے لے کر صبحِ صادق ہونے تک کا نام رات ہے ،اندازے سے اس کے تین حصّے کرکے آخر کا تہائی حصہ تہجّد پڑھنے اور دعاء و مناجات کی قبولیّت کا وقت ہے ،جیسا کہ صحیح بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور مسنداحمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ((یَنْزِلُ رَبُّنَا کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآئِ الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقَیٰ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْآخِرِ، فَیَقُوْلُ: مَنْ یَّدْعُوْنِیْ فَأَسْتَجِیْبُ لَہٗ؟ مَنْ یَّسْأَلُنِیْ فَأُعْطِیْہِ؟ مَنْ یَّسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرُ لَہٗ)) [1] ’’ ہمارا پروردگار ہر رات کے آخری حِصّہ میں آسمانِ دنیا پر آکر فرماتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے دعاء کرے؟ میں اُس کی دعاء کو قبول کروں۔ کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے؟ میں اس کو دوں۔ کوئی روزی کا طلبگار ہے؟ جو مجھ سے [1] صحیح البخاری مع الفتح ۱۱؍۱۳۳، مختصر مسلم: ۱۸۸۰، صحیح الجامع ۲؍۱۳۵۷ ۔