کتاب: آداب دعا - صفحہ 60
((سَابُّ الْمُؤْمِنِ کَالْمُشْرِفِ عَلَی الْہَلَکَۃِ))۔ [1] ’’مؤمن کو گالی دینے والا اس شخص کی طرح ہے جو ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہو ‘‘ مومن مسلمان تو بہت قدر و منزلت والا ہوتا ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کئی معمولی معمولی چیزوں کو گالی دینے سے بھی منع فرمایا ہے ،مثلاً: مُرغ کو گالی دینے سے بھی روکا ہے جیسا کہ ابو داؤد میں صحیح سند سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((لَا تَسُبُّوا الدِّیْکَ ، فَاِنَّہٗ یُوْقِظُ لِلصَّلوٰۃِ))۔ [2] ’’مرغ کو گالی مت دیا کرو ۔ یہ نماز(فجر) کیلئے اٹھاتا(بیدار کرتا )ہے ۔‘‘ اور صحیح مسلم میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((لَا تَسُبُّوا الدَّہْرَ، فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الدَّہْرُ))۔ [3] ’’زمانے کو گالی مت دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود زمانہ ہے ‘‘ ۔ اور بخاری و مسلم ، ابو داؤد اور مسند احمد کی ایک حدیثِ قدسی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: یُؤْذِیْنِیْ ابْنُ آدَمَ، یَسُبُّ الدَّہْرُ وَ أَنَا الدَّہْرُ بِیَدِیْ الْأَمْرَ ، اُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ)) ۔[4] ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ابنِ آدم مجھے اذیّت پہنچاتا ہے زمانے کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں سارا معاملہ میرے ہاتھ میں ہے ۔ اور دن رات کو میں بدلتا ہوں ۔‘‘ [1] صحیح الجامع۱؍۶۷۱، الصحیحۃ:۱۸۷۸ ۔ [2] مشکوٰۃ:۴۱۳۶، صحیح الجامع ۲؍۱۲۲۲ ۔ [3] مختصر مسلم :۸۱۴ [4] الصحیحۃ :۵۳۱، صحیح الجامع ۲؍۸۰۰ ۷۷