کتاب: آداب دعا - صفحہ 58
والی، عورتوں کے کپڑے پہننے والا، مردوں کے کپڑے پہننے والی ، مردانہ چال ڈھال اختیار کرنے والی، زنانہ چال ڈھال اختیار کرنے والا، چور ،بِچّھو، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، کفن چور مرد، کفن چور عورت ، خوبصورتی کیلئے دانتوں میں درزیں بنوانے والی ، اللہ کی تخلیق و ساخت بدلنے والی، قبروں کی بکثرت زیارت کرنے والی، چہرے پر کوئی نشان بنانے اور بنوانے والا، یہود، نصاریٰ، صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی دینے والا، والدین کو گالی دینے والا، غیرُ اللہ کیلئے ذبح کرنے (چڑھاوے چڑھانے) والا، بدعتی کو پناہ دینے والا، زمین کے نشاناتِ تقسیم ( بُرجیاں)مٹانے (بدلنے) والااور جانور کا مُثلہ کرنے(اس کے ناک کان وغیرہ کاٹنے)والا۔ یہ سب وہ لوگ اور اشیاء ہیں جنھیں دو ایک نہیں کم و پیش چھبیس(۲۶) صحیح احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ [1] لہٰذا کسی کا نام لیٔے بغیر محض کسی فعل و کرتوت کی بناء پر ایسے کرنے والوں کو لعنت کی جاسکتی ہے ورنہ نہیں کیونکہ انسان تو انسان ہے صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک عورت کو ایک اونٹنی پر لعنت کرتے سنا تو اُس کے اس فعل پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا : ((خُذُوْا مَا عَلَیْہَا وَ دَعُوْہَا ، فَاِنَّہَا مَلْعُوْنَۃٌ))۔ [2] ’’ اونٹنی پر سے سامان اتارلو اور اسے چھوڑ دو ، اس پر لعنت کی جا چکی ہے ۔‘‘ اس حدیث کے آخر میں راویٔ حدیث حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گویا اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں جو لوگوں کے ما بین دھتکاری ہوئی پھررہی ہے اور کوئی اسے لینے کیلئے تیار نہیں۔جبکہ ابو داؤد و ترمذی ، ابن حبان، معجم [1] ان تما م امور سے متعلقہ تمام احادیث :صحیح الجامع ۲؍۹۰۶ ۔ ۹۱۰ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ [2] صحیح مسلم ۔