کتاب: آداب دعا - صفحہ 56
تُوَافِقُوْا مِنَ اللّٰہِ سَاعَۃً لِیُسْأَلَ فِیْہَا عَطَائٌ فَیُسْتَجَابُ لَکُمْ))۔ [1] ’’اپنے خلاف بد دعاء نہ کرو، اپنی اولاد کے خلاف بھی بد دعاء نہ کرو ،اپنے خدم و حشم [نوکروں ] کے خلاف بھی بد دعاء نہ کرو ، اپنے مال و متاع کے خلاف بھی بد دعاء نہ کرو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اللہ سے عطائیں پانے [قبولیّت]کی گھڑی میں بد دعاء کر بیٹھو اور وہ قبول ہوجائے ۔‘‘ (۲۵) …کسی معیّن شخص کے خلاف بد دعاء نہ کرنا : کسی معین شخص حتیٰ کہ جانور وغیرہ کو بھی بد دعاء نہ دی جائے اور اس پر لعنت نہ کی جائے۔ ہاں اجمالی طور پر ایسے لوگوں کیلئے بد دعاء اور لعنت کرنا جائز ہے جن کے افعال و کردار باعثِ لعنت ہوں جیسا کہ قرآنِ کریم میں بعض لوگوں پر لعنت کی گئی ہے،مثلاً سورۃ البقرۃ ، آیت:۸۹ میں ہے : { فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ} ’’ کافروں پر اللہ کی لعنت ہو ۔‘‘ سورۃ آل عمران ،آیت:۶۱ میں ہے : { ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَیٰ الْکَافِرِیْنَ } ’’پھر ہم دعاء و التجاء کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں ۔‘‘ سورۃ الاعراف،آیت:۴۴ میں ہے: { فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَنْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عََلَی الظَّالِمِیْنَ} ’’ تو ان میں سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بے انصاف[ظالموں]پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘ ایسے ہی سورۂ ہود ،آیت: ۱۸ میں ہے : [1] مختصر مسلم ۱؍۱۵۳۷،ابن حبان:۲۴۱۱ ۔ موارد ، صحیح الجامع ۲؍۱۲۱۶