کتاب: آداب دعا - صفحہ 55
’’سبحان اللہ! تم میں اتنی طاقت کہاں کہ اللہ کا عذاب جھیل سکو، تم نے یہ دعاء کیوں نہیں کی: (( الَلّٰہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ))۔ ’’اے اللہ ! ہمیں دنیا و آخرت میں نیکی و بھلائی عطا فرما اور ہمیں نارِ جہنّم کے عذاب سے بچا لے ۔‘‘ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کیلئے اللہ سے دعاء فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء و تندرستی عطا فرمائی۔[1] (۲۴)…اپنے اور اپنے اہل و مال کے خلاف بد دعاء نہ کرنا : اپنے اور اپنے اہل و مال کے خلاف بد دعاء نہ کی جائے ،چنانچہ صحیح مسلم ،ابو داؤد، بیہقی اور مسند احمد میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لاَ تَدْعُوْا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ اِلَّا بِخَیْرٍ، فَاِنَّ الْمَلٓائِکَۃَ یُؤَمِّنُ عَلٰی مَا تَقُوْلُوْنَ)) [2] ’’ اپنے خلاف خیر و بھلائی کی دعاء کے سوا کچھ [بد دعاء ]نہ کریں کیونکہ تمہاری دعاء و بد دعاء پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔‘‘ اسی طرح صحیح مسلم ، ابو داؤد اور ابن حبان میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((لاَ تَدْعُوْا عَلیٰ أَنْفُسِکُمْ وَ لَا تَدْعُوْا عَلیٰ أَوْلَادِکُمْ وَ لَاتَدْعُوْا عَلیٰ خَدَمِکُمْ وَ لَا تَدْعُوْا عَلَیٰ أَمْوَالِکُمْ ، لَا [1] صحیح مسلم ۴؍۲۰۶۸،حدیث:۲۶۸۸ ، صحیح الجامع ۱؍۹۷۳،حدیث:۳۵۹۷ [2] صحیح الجامع ۲؍۱۲۱۶