کتاب: آداب دعا - صفحہ 54
کہتے گئے اور روتے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ تیرا رب بہتر جاننے والا ہے پھر بھی جاؤ اور پوچھو تو سہی کہ کیوں روتے ہیں؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ بتائی حالانکہ اللہ اسے بہتر جانتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبرائیل ! جاؤ اور کہو: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ((اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِیْ اُمَّّتِکَ وَ لَا نَسُوْئُ کَ))۔ [1] ’’ آپ کی امّت کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کرینگے ، پریشان نہیں کریں گے‘‘ (۲۳) …دنیا میں ہی سزا طلب نہ کرنا : آدمی اللہ سے اِس دنیا میں ہی اپنے گناہوں کی سزا پانے کی دعاء و طلب نہ کرے بلکہ مغفرت و معافی مانگے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی دعاء کرنے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ صحیح مسلم ،ترمذی ، نسائی،مسند احمد اور الادب المفرد امام بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے جو بیماری کے سبب چُوزے [پرندے کے بچے] کی طرح کمزور ہو چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا : ’’ کیا آپ کوئی دعاء کرتے تھے ؟ ۔‘‘ انہوں نے جواب دیا :جی ہاں، میں دعاء کیا کرتا تھا کہ اے اللہ ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینا چاہتا ہے ،وہ مجھے اس دنیا میں ہی دے لے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ ! لَا تُطِیْقُہٗ أَوْ لَا تَسْتَطِیْعُہٗ۔ أَفَلَا قُلْتَ: الَلّٰہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ))۔ [1] صحیح مسلم ۔