کتاب: آداب دعا - صفحہ 52
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسروں کا اپنے لیٔے دعاء کی درخواست کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعاء کروایا کرتے تھے ۔[1] (۲۱) … موت کی دعاء نہ کریں : اپنی موت کی دعاء نہ کی جائے کیونکہ ایک مومن آدمی کیلئے یہ ہرگز لائق نہیں کہ وہ دنیا کی زندگی سے دل برداشتہ ہو کر اپنے لیٔے موت کی تمنّا و دعاء کرے اس لیٔے کہ اگر وہ نیک و صالح ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوجائے اور اگر گنہگار و خطاکار اور عیبی و پاپی ہے تو ممکن ہے کہ اس کو توبہ کی توفیق مل جائے اور اس کے گناہ معاف ہو جائیں۔ اور پھر یہ موت رنجیدگی و پریشانی کا کوئی علاج بھی تو نہیں ۔ بقولِ شاعر ؎ اب تو گھبرا کے کہتے ہیں کہ مرجائیں گے مرکے بھی چَین نہ پایا تو کِدھر جائیں گے صحیح بخاری و مسلم ، سنن اربعہ اور مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ((لَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہٗ))۔ ’’ تم میں سے کوئی شخص کسی مصیبت کی وجہ سے موت کی خواہش نہ کرے‘‘ اگر ضرور ہی کچھ کہنا چاہتا ہو تو اِسی حدیث میں مذکور ہے کہ وہ اس طرح دعاء کرسکتا ہے : ((اللّٰہُمَّ أَحْیِنِیْ مَا کَانَتِ الْحَیوٰۃُ خَیْراً لِّیْ وَ تَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْراً لِّیْ)) ۔[2] [1] ایسے واقعات کتبِ حدیث میں بکثرت موجود ہیں ۔ [2] بخاری مع الفتح ۱۱؍۱۵۵، مختصر مسلم :۱۸۸۴،ارواء الغلیل:۶۸۳