کتاب: آداب دعا - صفحہ 50
مغفّل رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ قَوْمٌ یَعْتَدُوْنَ فِیْ الطُّہُوْرِ وَ الدُّعَآئِ)) [1] ’’ اس اُمّت میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو طہارت ووضوء کرنے اور دعاء مانگنے میں حدود سے تجاوز کریں گے۔‘‘ جب کہ مسند احمد و ابو داؤد میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((سَیَکُوْنُ قَوْمٌُ یَعْتَدُوْنَ فِی الدُّعَائِ))۔ [2] ’’ ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو دعاء میں حد سے تجاوز کرے گی ۔‘‘ تجاوز کرنے کی صورتیں : دعاء میں اعتداء ومبالغہ آمیزی سے منع فرمایا گیا ہے ۔اور اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً : دعاء میں لفظی تکلّفات قافیہ و سجع و غیرہ اختیار کیٔے جائیں ۔ جس سے خشوع و خضوع میں فرق پڑے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے کہ وہ دعاء میں سجع و قافیہ بندی سے قطعاً اجتناب کیا کرتے تھے۔[3] دعاء میں غیر ضروری قیدیں لگائی جائیںجیسے حدیث میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مغفّل رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اُن کے صاحبزادے اس طرح دعاء مانگ رہے ہیں کہ یا اللہ! میں جنّت میں سفید رنگ کا دائیں جانب والا محل طلب کرتا ہوں،تو [1] صحیح ابی داؤد : ۸۶، صحیح الجامع الصغیر :۲۳۹۶، ارواء الغلیل:۱۴۰ ۔ [2] صحیح سنن ابی داؤد:۱۳۳، صحیح الجامع:۳۶۷۱ ۔ [3] بخاری ،حدیث:۶۳۳۷ مع الفتح ۱۱؍۱۴۳