کتاب: آداب دعا - صفحہ 49
یا نماز کے باہر دعاء کروائے جیسے خطبۂ جمعہ کے دوران اور دعائِ قنوت و غیرہ ، اور اگر خاموشی سے وہ صرف خود ہی دعاء کرتا ہے تو امام خاص اپنے لیٔے دعاء کرسکتا ہے اور حالتِ نماز میں نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص اپنے لیٔے دعاء کرنا احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔ جیسے صحیح بخاری و مسلم ، ابو داؤد ، نسائی اور مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے یہ دعاء کیا کرتے تھے: ((اللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ))۔ [1] ’’اے اللہ! میں عذابِ جہنّم سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اے اللہ !میں عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور اے اللہ! میں موت و حیات کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اے اللہ !میں مسیح دجّال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘ (۱۹) … حد سے تجاوز(مبالغہ آمیزی)نہ کرنا : دعاء و فریاد کرتے وقت حد سے تجاوز نہ کیا جائے ۔یہ ادب قرآن کے اُن الفاظ سے معلوم ہوتا ہے جو سورۂ اعراف، آیت: ۵۵ میں ہیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے : { اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ }۔ ’’ اللہ کو گِڑگِڑا کر اور پوشیدگی سے پکارو ،اللہ حد سے تجاوز و زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔‘‘ اور حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت حدیث میں بھی آئی ہے جیسا کہ ابو داؤد، ابن ماجہ ، ابن حبان، مستدرک حاکم اور مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن [1] صحیح بخاری ۱؍۲۰۲۔۲؍۱۰۲، صحیح مسلم ۱؍۴۱۲، ابو داؤد،نسائی،مسند احمد بحوالہ صفۃ صلوٰۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للالبانی، ص:۱۰۹۔