کتاب: آداب دعا - صفحہ 47
’’ آدمی یہ کہنے لگے کہ میں دعاء کرتا رہا مگر مجھے تو قبول ہوتے نظر نہیں آتی اور پھر اُکتا کر دعاء کرنا چھوڑ دے ۔‘‘ (۱۷) … دعاء میں لفظِ شرط استعمال نہ کرنا : دعاء میں شرط کا لفظ استعمال نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کو غفور و غفّار اور رؤوف و رحیم سمجھتے ہوئے پورے یقین و اعتماد اور عزم و پختگی سے دعاء کریں۔ کیونکہ دعاء و مناجات میں لفظِ شرط کا استعمال کرنا ممنوع و ناجائز ہے۔ یعنی یہ نہ کہے کہ : ’’ اے اللہ اگر تو چاہے تو میرا قرض ادا کردے۔‘‘ ’’ اگر تو چاہے تو میری مددکر ۔‘‘ ’’ اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ۔‘‘ اس قسم کے الفاظ سے دعاء کرنا ناجائز و ممنوع ہے۔ بغیر کسی تردّد و تذبذب کے دعاء کرنا چاہیٔے ،یہ کہیں : ’’ اے اللہ تو مجھے بخش دے ۔‘‘ ’’ اے اللہ تو میرا قرض ادا کر دے‘‘ ۔ ’’اے اللہ تو میری مدد کر ۔‘‘ اس بات کی تصریح صحیح بخاری و مسلم ، نسائی اور مسند احمد میں ہے ۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((اِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ فَلْیَعْزِمِ الْمَسْأَلَۃَ وَ لَا یَقُوْلَنَّ : اَللّٰہُمَّ اِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِیْ فَاِنَّّہٗ لَا مُسْتَکْرِہَ لَہٗ)) ۔[1] ’’ جب تم میں سے کوئی شخص دعاء کرے تو یقین و عزم کے ساتھ سوال کرے اور یہ ہرگز نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے [فلاں چیز] دے دے کیونکہ اس کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے ۔‘‘ [1] بخاری مع الفتح ۱۱؍۱۴۴، صحیح الجامع۱؍۱۵۳۔