کتاب: آداب دعا - صفحہ 44
اے اللہ ! میرے اور فلاں رشتہ دار میں جدائی ڈال دے ، یا یہ کہ اے اللہ ! مجھے سینما دیکھنے کی توفیق دے یا فلاں جگہ سے چوری کرنے میں میری مدد فرما ، ایسی دعائیں مانگنا ناجائز ہے۔کیونکہ ایسی دعائیں بارگاہِ الٰہی میں قبولیّت سے ہمکنار نہیں ہوتیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((یُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَالَمْ یَدْعُ بِاِثْمٍ أَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ))۔ [1] ’’بندے کی دعاء اگر گناہ یا قطع رحمی پر مشتمل نہ ہو تو وہ دعاء قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ مؤمن بندے کی زبان سے نکلی ہوئی دعاء کبھی بھی بیکار نہیں جاتی ، یا تو اُس کی دعاء کو اُسی وقت قبول کرلیا جاتا ہے ، یا اس کی دعاء کو اس کی آخرت کیلئے ذخیرہ کرلیا جاتا ہے ،یا اس کی دعاء کی وجہ سے کسی آنے والی مصیبت کو اُس انسان سے دور کر دیا جاتا ہے ، بشرطیکہ دعاء کرنے والا ظلم و جرم کی دعاء نہ کرے ۔ چنانچہ مسند احمد و بزار، ابی یعلیٰ اور مستدرک حاکم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ((مَامِنْ مُسْلِمٍ یَدْعُوْ بِدَعْوَۃٍ لَیْسَ فِیْہَا اِثْمٌ وَ لَا قَطِیْعَۃُ رَحِمٍ اِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ بِہَااِحْدَیٰ ثَلَاثٍ :اِمَّا أَنْ یُعَجِّلَ لَہٗ دَعْوَتَہٗ وَ اِمَّا أَنْ یُؤَخِّرَہَا لَہٗ فِیْ الْآخِرَۃِ وَ اِمَّا أَنْ یُصْرَفَ عَنْہُ السُّوْئَ مِثْلَہَا))۔ [2] ’’ جو بھی مسلمان کوئی دعاء کرتا ہے۔جس میں کوئی برائی نہ ہو ، اور نہ رشتہ داروں کے ساتھ قطع تعلّقی ہوتی ہو تو اللہ اُس دعاء کے بدلے ان تین باتوں [1] مشکوٰۃ ۲؍۶۹۲ ۔ [2] مشکوٰۃ ۲؍۶۹۷شیخ البانی نے اس کی سند پر کوئی کلام نہیں کیا ،الترغیب و الترہیب للمنذری اردو ترجمہ از مولانا عبد اللہ دہلوی ۲؍۴؍۱۹۴ ۔