کتاب: آداب دعا - صفحہ 36
ان آیاتِ قرآنیہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسمائِ حُسنیٰ کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی پکارا جائے ۔ اللہ تعالیٰ کے اُن مخصوص ناموں سے جو قرآن وحدیث میں کہیں بھی اضافتِ عبد کے ساتھ غیرُ اللہ کیلئے استعمال ہوئے ہیں ، اُن ناموں سے اضافتِ عبد کے بغیر کسی مخلوق کو نہیں پکارنا چاہیٔے۔ مثلاً اگر کِسی کا نام عبد الرّزاق اور عبد القدّوس ہے تو اس آدمی کو قدّوس اور رزّاق کہہ کر آواز نہ دی جائے بلکہ عبد القدّوس اور عبدالرّزاق ہی کہنا چاہیٔے ۔ ایک وضاحت : یہاں یہ وضاحت کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ صحیح بخاری و مسلم میں اللہ کے ننانوے(۹۹) ناموں کا صرف عدد آیا ہے جبکہ بعض کتبِ حدیث ترمذی وغیرہ میں عدد کے ساتھ ساتھ نام بھی وارد ہوئے ہیں لیکن ترمذیکی سند ضعیف ہے اور ننانوے کے عدد سے بعض اہلِ علم کو غلط فہمی ہوئی جیسے کہ علّامہ ابن حزم ہیں ۔ [1] انھیں اور عوام النّاس میں تو معروف ہی یہی ہے کہ اللہ کے صرف ننانوے ہی نام ہیں جبکہ یہ صحیح نہیں ۔ اسی طرح بعض لوگوں نے کہا کہ اللہ کے نام تین سو ، کسی نے کہا ایک ہزار اور کسی نے انبیاء و رسل کی تعداد کے برابر اسمائِ حُسنی ٰقرار دیئے ہیں جبکہ یہ بھی صحیح نہیں اور صحیح تر بات جمہورِ اہلِ علم والی ہے کہ جس طرح اللہ کے کلمات کی کوئی حد و انتہاء نہیں اُسی طرح اس کے اسمائِ حُسنیٰ کی گنتی بھی لا تعداد و بے شمار ہے ۔ جیسا کہ صحیح ابن حبان ، مسنداحمد، مسند ابو یعلٰی، مستدرک حاکماور عمل الیوم و اللیلۃ ابن السنی کی ایک حدیث سے بھی اسی بات کا پتہ چلتا ہے ۔[2] [1] المحلّـٰی ابن حزم ۱؍۳۰، ۸؍۳۱ ۔ [2] الصحیحۃ : ۱۹۹، مجمع الزوائد ۵؍۱۰،۱۳۹ ۔۱۴۰ ، تفسیر ابن کثیر ۲؍۳۵۷۲۔۳۵۸ تفسیر سورۃ الاعراف،آیت: ۱۸۰،مزیدتفصیل کیلئے دیکھیٔے :ہماری کتاب ’’ذکرِ الٰہی ‘‘ ص:۴۲۷ تا ص: ۴۵۲ ۔