کتاب: آداب دعا - صفحہ 34
ساتھ کیٔے گئے اعمالِ صالحہ کے وسیلہ کے ساتھ دعاء والتجاء کرنا بھی قبولیّتِ دعاء کے لیٔے انتہائی مؤثّر ہے جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں اصحابِ غار والا واقعہ مذکور ہے ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زمانہ میں تین آدمی اپنے کسی سفر میں نکلے،رات کا وقت تھا تو اچانک آندھی اور بارش آگئی ۔ ان تینوں نے آندھی و بارش سے بچنے کیلئے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی ۔ طوفان وبارش کی وجہ سے ایک بہت بڑا پتھّر لڑکھڑاتا ہوا اُسی غار کے منہ پر آگیا جس میں یہ تینوں داخل ہوئے تھے اور غار کا منہ بند ہوگیاتو اُس وقت اُن تینوں نے مشورہ کیا اور کہا : (( لَا یُنَجِّیَنَّکُم مِنْ ہٰذِہِ الصَّخْرَۃِ اِلَّا أَنْ تَدْعُو ا اللّٰہَ بِصَالِحِ أَعْمَالِکُمْ )) ’’ اس بڑی چٹان سے نجات پانے (اور بچنے )کا سوائے اس کے اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ تم اپنے نیک اور خالص عملوں کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے دعاء کرو۔‘‘ انہوں نے خالص اللہ کی رضاء کیلئے کیٔے ہوئے اپنے اپنے اعمال کے وسیلہ سے دُعاء وپکار کی تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی مشکل کو حل کردیا ، چٹان راستے سے ہٹ گئی اور انہیں نجات ملی ۔اُن تینوں کے اُن اعمال کی تفصیلات بھی صحیح بخاری و مسلم میں مذکور ہیں ۔[1] (۸) … اسماء ُالحُسنیٰ کے ساتھ دعاء : اللہ تعالیٰ کے اسماء حُسنیٰ کے ساتھ دعاء کی جائے کیونکہ اللہ کے اسماء حُسنیٰ کے ساتھ اس سے جو بھی فریاد ودعاء کی جائے گی اسے ان شآء اللہ درجۂ قبولیّت بھی ضرور حاصل ہو گا ۔سورۂ اعراف ،آیت : ۱۸۰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : [1] دیکھیٔے : بخاری مع الفتح ۱؍۴۱۸۔