کتاب: آداب دعا - صفحہ 33
’’مچھلی والے [یونس علیہ السلام]کو یاد کرو !وہ غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے ۔ بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکاراٹھا کہ الہٰی! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں ہوگیا‘‘ ۔ اس پر اللہ تعالیٰ اس سے اگلی ہی آیت :۸۸ میں فرماتے ہیں : {فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَنَجَّیْنٰـہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَٰلِکَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِیْنَ} ’’تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اُسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیتے ہیں ‘‘ ۔ صحیح بخاری اور مسند احمدمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بندہ جب گناہ کر بیٹھے اور یہ کہے : (( رَبِّ أَذْنَبْتُ [أَصَبْتُ]ذَنْباً ، فَاغْفِرْ ))۔ ’’اے اللہ ! میں نے گناہ کرلیا ہے ،مجھے بخش دے ‘‘ ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (( أَعَلِمَ عَبْدِیْ أَنَّ لَہٗ رَبّاً یَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ یَأْخُذُ بِہٖ ))۔ ’’ کیا میرے بندے کو اس بات کا علم ہے کہ اسکا رب ہے جو گناہ بخشتا اور اُن پر پکڑلیتا ہے ؟‘‘ ۔ اور پھر فرماتا ہے : (( غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ)) ’’ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ‘‘[1] (۷)… اعمالِ صالحہ کا وسیلہ : اپنے اعمالِ صالحہ کے وسیلے کے ساتھ دعاء کی جائے کیونکہ خلوصِ نیّت کے [1] صحیح بخاری مع الفتح ۱۳؍۴۷۴ ، صحیح الجامع ۱؍۴۲۳، حدیث :۲۱۰۹۔