کتاب: آداب دعا - صفحہ 30
آدابِ دعاء سے ہو گا، جب دعاء سے مقصد حاجت براری ہو ۔ ہر دعاء اور ذکر اذکار میں ہاتھ اُٹھانا ادب نہیں ہے جیسے کسی دعاء کو بہ نیّتِ ذِکر پڑھنا، یا صبح وشام کی دعائیں خواب وبیداری ،دخولِ بیت الخلاء ،خروجِ بیت الخلاء ،دخولِ مسجد وخروجِ مسجد ، قیام عن المجالس اور دخولِ بازار وغیرہ کی دعائیں، ان دعاؤں میں ہاتھ اُٹھانا خلافِ ادب ہے ۔ [1] (۴) … ہاتھ اٹھانے کی کیفیت : دعاء کیلئے ہاتھ اس انداز سے اُٹھائے جائیں کہ ہاتھوں کی پُشت قبلہ کی طرف ہو اور اُن کا اندرونی حِصّہ اپنے چہرے کی طرف یعنی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں چہرے کے سامنے ہوں ۔اس سلسلہ میں حضرت مالک بن یسار السکونی رضی اللہ عنہ سے سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَاسْئَلُوْہُ بِبُطُوْنِ أَکُفِّکُمْ وَلاَ تَسْئَلُوْہُ بِظُہُورِہاَ )) [2] ’’ جب تم اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگو تو اپنی ہتھیلیوں سے مانگو، ہتھیلیوں کی پُشت سے نہ مانگو ‘‘ ۔ ایسے ہی ابو داؤد ، ابن ماجہ ، معجم طبرانی کبیراور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((سَلُوا اللّٰہَ بِبُطُونِ أَکُفِّکُمْ وَلَا تَسْأَلُوْہُ بِظُھُورِھَا))۔ [3] [1] احکامِ دعاء بحوالہ التحقیق الحسن فی نفی الدعاء الاجتماعی بعد الفرائض و السنن ، ص:۲۱۳ ازمولانا حکیم عماد الدین قریشی ،طبع کوئٹہ ۔ [2] صحیح الجامع ۱؍۱۶۳ ، الصحیحۃ :۵۹۵، ابو داؤد مترجم از علّامہ وحید الزمان ۱؍۵۵۴، صحیح ابی داؤد :۱۳۳۵ ۔ [3] صحیح ابی داؤد ۱؍۲۷۸ ، الصحیحۃ ۲؍۱۴۶ ، صحیح الجامع ۱؍۶۷۹۔