کتاب: آداب دعا - صفحہ 29
طرح بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھوں کا پیالہ خیرات کیلئے بڑھادیتا ہے ۔[1] جبکہ ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ،مستدرک حاکم اور مسند احمد میں حضرت سلمان الفارسی سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اِنَّ رَبَّکُمْ حَیِيٌّ کَرِیْمٌ یَسْتَحِيْ مِنْ عَبْدِہٖ اِذَا رَفَعَ اِلَیْہِ یَدَیْہِ أَنْ یَرُدَّہُمَا صِفْرًا خَائِبَتَیْنِ )) [2] ’’ اللہ تعالیٰ بہت ہی زیادہ حیا دار ہے ،وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ اپنے بندے کے اُٹھے ہوئے ہاتھوں کو خالی ونامراد واپس لوٹادے ۔‘‘ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعاء والتجاء کے وقت ہاتھ اُٹھانا سنت ہے ، اور یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے : (( لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ صلي ا للّٰه عليه وسلم یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِیْ شَیٍٔ مِّنَ الدُّعَائِ اِلاَّ فِي الْاِسْتِسْقَائِ)) ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو اُوپر نہیں اُٹھاتے تھے۔ سوائے دعاء استسقاء کے وقت ‘‘ تو اس حدیث سے مطلقًا ہاتھ اٹھانے کی نفی مراد نہیں بلکہ رفع الیدین فی الاستسقاء کی طرح مبالغہ کرنے کی نفی مرادہے ۔ جیسا کہ بلوغ المرام کی شرح سبل السلام میں علّامۂ یمانی امیرِ صنعانی نے وضاحت کی ہے ۔[3] ملاحظہ: یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ ہاتھ اُٹھاکر دعاء کرنا اس وقت [1] حاشیہ مشکوٰۃ مترجم از مولانا محمد سلیمان کیلانی ۲؍۴۰۸ ۔ [2] ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ۹؍۳۸۱ ، صحیح الجامع،حدیث:۱۷۵۷۔ [3] سُبل السلام شرح بلوغ المرام ۴؍۲۱۹۔