کتاب: آداب دعا - صفحہ 28
ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اِنَّ لِکُلِّ شَیٍٔ سَیِّداً وَأَنَّ سَیِّدَ الْمَجَالِسِ قُبَالَۃُ الْقِبْلَۃِ))۔ [1] ’’ ہر چیز کا کوئی سردار ہوتا ہے اور مجلس کی سردار جہتِ قبلہ ہے ۔‘‘ جبکہ صحیح بخاری میں ہے : (( اِسْتَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي ا للّٰه عليه وسلم الْقِبْلَۃَ فِيْ دُعاَئِ الاِْسْتِسْقَائِ) [2] ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء استسقاء [ طلبِ بارش ] کے وقت اپنا رُخِ انور قبلہ شریف کی طرف کرلیا ۔‘‘ صحیح مسلم میں ہے : (( وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فِیْ دُعَائِہٖ یَوْمَ بَدْرٍ )) [3] ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر دعاء کرتے وقت اپنے رُخِ زیبا کو قبلہ کی طرف کرلیا ۔‘‘ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ یہ بات مسنون اور آدابِ دعاء میں سے ہے کہ دعاء کرتے وقت بندہ قبلہ رُو ہو ۔ (۳) … دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھانا : دعاء کرنے کیلئے اپنے دونوں ہاتھوں کو اُوپر تقریباً چہرے یا کندھوں کے برابر تک اٹھایا جائے ، اس لیٔے کہ یہ گداگر کی حالت کے مشابہ ہے ، جیسے فقیر کسی دروازے پر کھڑے ہو کر سوال کرتا ہے ۔اور اپنا کاسہ خیرات لینے کیلئے آگے بڑھادیتا ہے ۔ اُسی [1] بحوالہ صحیح الاذکار ۔ ابو عبیدہ عبد العزیز الماجد ، ابو ظہبی۔ [2] بخاری مع الفتح ۱۱؍۱۴۸ [3] صحیح مسلم بحوالہ فتح الباری ۱۱؍۱۴۸۔