کتاب: آداب دعا - صفحہ 27
’’ مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ میں طہارت ووضوء کے بغیر اللہ کا ذکر کروں ۔‘‘ سلام کے جواب میں اگر وَ عَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ کہا جائے تو اس میں السَّلَام اسماء الحسنیٰ میں سے اللہ کا ایک صفاتی نام اور اللّٰہ اس کا ذاتی اسمِ جلالت ہے یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دینے کو ذکرِ الٰہی سے تعبیر فرمایا ہے ۔ اور چونکہ دعاء بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر و عبادت ہی ہے، جیسا کہ سنن اربعہ اور مسند احمد کی صحیح حدیث ذکر کی جاچکی ہے جس میں ہے : (( الدُّعَآئُ ہُوَ الْعِبَادَۃُ )) ۔[1] ’’ دعاء عبادت ہی ہے ۔‘‘ اور مستدرک حاکم کے علاوہ الکامل ابن عدی میں حضرت ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : (( أَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ الدُّعَآئُ)) [2] ’’افضل ترین عبادت اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگنا ہے ۔ ‘‘ اور جب دعاء بھی اللہ کا ذکر اور اسکی عبادت ہے تو اس کے لیٔے بھی طہارت و وضوء ہونا چاہیٔے ۔ (۲) … استقبالِ قبلہ : دعاء و مناجات کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا بھی ایک مستحب ومشروع عمل ہے ،اس لیٔے کہ شریعتِ اسلامیہ نے نماز کیلئے قبلہ رخ ہونے کا حکم دیا ہے اور رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعاء کرتے وقت بھی قبلہ کی طرف رُخ کرنا کئی احادیث سے ثابت ہے۔چنانچہ معجم طبرانی کبیر میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت [1] دیکھیٔے تخریج : ۲ [2] صحیح الجامع الصغیر ۱؍۲۵۱، حدیث:۱۱۲۲۔