کتاب: آداب دعا - صفحہ 24
دعاء کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں درخواست پیش کرنا ہے ، جس طرح حاکم کے یہاں درخواست دیتے ہیں ، کم از کم دعاء اس طرح کرنا چاہیئے کہ درخواست دیتے وقت آنکھیں بھی اسی طرف لگی ہوئی ہوں ، دل ہمہ تن اُدھر ہوتا ہے ، صورت بھی عاجزوں کی سی بناتے ہیں ، اگر زبانی کچھ عرض کرنا ہوتا ہے تو کیسے گفتگو کرتے ہیں ؟ اور اپنی عرضی منظور کروانے کہ لیٔے پورا زور لگاتے ہیں ، اور اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں آپ سے پوری امید ہے کہ ہماری درخواست پر پوری توجہ فرمائی جائے گی ، ایسے ہی اللہ تعالیٰ سے التجاء ودعاء کرتے وقت دل ودماغ اسی کی طرف ہو ، اور پورے خلوص سے دعاء مانگی جائے ، کیونکہ دوسری عبادات کی طرح ہی دعاء والتجاء میں بھی خلوص اہم ترین شرط ہے جس کے بغیر کوئی بھی عمل قبول نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بیّنہ میں فرمایا ہے : { وَمَا اُمِرُوْا اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلَـٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذَ ٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ } [1] ’’ اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لیٔے خالص کرکے ،بالکل یک سو ہوکر، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ،یہی نہایت درست اور صحیح دین ہے ۔‘‘ دوسری جگہ سورۂ مؤمن میں کہا ہے : { ہُوَ الْحَیُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ}[2] ’’ وہی [ اللہ تعالیٰ ] زندہ ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کو تم پکارو اپنے دین کو اُسی کے لیٔے خالص کرکے ‘‘ سورۂ حج میں ارشادِ الٰہی ہے : [1] سو رۃ البیّنہ :۵ ۔ [2] سورۃ غافر : ۶۵ ۔