کتاب: آداب دعا - صفحہ 17
سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ} ۔ ’’ مجھے پُکارو میں تمہاری دعائیں سنتا ہوں ، بیشک جو لوگ میری عبادت [دعاء کرنے ]سے تکبّر کرتے ہیں ، وہ ذلیل ہو کر جہنّم میں داخل ہوں گے ‘‘ ایک اور حدیث جو کہ مستدرک حاکم میں حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما سے اور الکامل ابن عدی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور طبقات ابن سعد میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : (( أَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ اَلدُّعَآئُ )) ۔ ’’ افضل عبادت دعاء کرنا ہے ۔‘‘ [1] دعاء نہ کرنے پر اللہ کی ناراضگی : سنن ابی داؤد اور الادب المفرد امام بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے : (( مَنْ لَّمْ یَدْعُ اللّٰہَ غَضِبَ عَلَیْہِ )) ۔[2] ’’ جو اللہ سے دُعاء نہیں کرتا اس سے وہ ناراض ہوتا ہے ۔‘‘ مخلوق اور خالق کے درمیان تو یہی فرق ہے کہ مخلوق سے مانگو تو ناراض ہوتے ہیں اور لیٹ کرتے ہیں ،کبھی جِھڑک دیتے ہیں ،لیکن اللہ تعالیٰ اس وقت ناراض ہوتا ہے جب اُس سے التجاء و دُعاء نہ کی جائے ، اس کے سامنے دستِ سوال نہ پھیلایا جائے جیسا کہ ذکر کی گئی اس حدیث میں ہے ، اور ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے: [1] صحیح الجامع الصغیر ۱؍۲۵۱،حدیث:۱۱۲۲ [2] الادب المفردص ۲۲۹۔