کتاب: آداب دعا - صفحہ 101
اِیَّاہُ))۔ [1] ’’حجر اسود اور بابِ کعبہ کے درمیان واقع ملتزم پر جس نے جو دعاء کی اللہ اسے مطلوبہ چیز عطا کر دے گا ۔‘‘ (۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲)… مطاف [جائے طواف] ، مسعیٰ [جائے سعی]، میدانِ عرفات، مزدلفہ ،منیٰ: بھی مقاماتِ قبولیّتِ دعاء ہیں۔ کیونکہ ان سب جگہوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں کی ہیں۔ (۱۳) …مسجدِ نبوی : صحیح بخاری و مسلم ، ترمذی و نسائی ، مؤطا مالک اور مسند احمد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ((مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ))۔ [2] ’’ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصّہ [رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ] جنّت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے ۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، آئمہ سلف و محدّثین اور صُلحاء و متّقینِ امّت اس جگہ نمازیں پڑھتے آرہے ہیں اور دعائیں کرتے آرہے ہیں ،کیونکہ اس مقام کا [رَوْضَۃُ الْجَنَّۃِ ]ہونا ہی قبولیّتِ دعاء کا واضح سبب ہے ۔ (۱۴)… مسجد اقصیٰ : بخاری و مسلم ، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : [1] سنن کبریٰ بیہقی ۵؍۱۶۴، شعب الایمان۷؍۶۰۵ ، سوئے حرم للمؤلّف ص:۲۶۴، مناسک الحج و العمرہ للالبانی، ص:۳۳ ترجمہ محمد منیر قمر ۔ [2] بخاری : ۱۱۹۶۔ ۱۸۸۸، مسلم ۹؍۱۶۲، ترمذی :۳۹۱۵۔۳۹۱۶،موطا مالک ۱؍۱۹۷، صحیح الجامع ۲؍۹۷۸