کتاب: آداب دعا - صفحہ 100
اس حدیث کی رو سے گویا پورا مزدلفہ مقامِ قبولیّتِ دعاء ہے ۔کیونکہ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مذکور ہے: ((حَتَّی أَتَی الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَدَعَاہُ۔۔۔۔))[1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر الحرام کے پاس آئے اور قبلہ رو ہوکر دعاء فرمائی‘‘ (۷) … مُلْتَزم [حجر اسود و بابِ کعبہ کی درمیانی جگہ] ابو داؤد ، ابن ماجہ، دار قطنی ،بیہقی اور مصنف عبد الرزاق میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ملتزم کے ساتھ چمٹ کر اور سینے کو دیوار کے ساتھ لگا کر اور ہاتھوں کو دیوارِ کعبہ پر بچھا کر دعائیں مانگتے تھے۔ [2] مؤطا امام مالک،مصنف عبد الرزاقاورالکامل ابن عدیکی ایک دوسری روایت میں ہے : ((مَنْ دَعَا مِنْ ذِیْ حَاجَۃٍ أَوْ ذِیْ غُمَّۃٍ فُرِجَ عَنْہُ بِاِذْنِ اللّٰہِ))۔ [3] ’’ جو حاجتمندیا مصیبت زدہ یہاں (ملتزم پر ) دعاء کرے گا ،وہ اللہ کے حکم سے کشائش و عافیت پائے گا‘‘ جبکہ امام بیہقی کی سنن کبریٰ اور شعب الایمان میں ہے : ((لاَ یَلْتَزِمُ مَا بَیْنَہُمَا أَحَدٌ یَّسْأَلُ اللّٰہَ شَیْئاً اِلَّا أَعْطَاہُ [1] مسلم : ۸؍۱۹۵ ، ابو داؤد : ۱۹۰۷ ، ۱۹۰۸ ، ۱۹۳۶ ، نسائی : ۵؍ ۳۶۵ ۔ [2] ابو داؤد:۱۸۹۸، صحیح ابن ماجہ:۲۹۶۲، عبد الرزاق:۹۰۴۳، دار قطنی۲؍۲۸۹، بیہقی ۵؍۹۳،۱۶۴۔ یہ شواہد کی بناء پر صحیح حدیث ہے ، تفصیل :سوئے حرم حدیث :۱۷۲ازمؤلّف بتحقیق حافظ عبد الرؤوف ۔ [3] مؤطا مالک ۱؍۲۲۴، الکامل ابن عدی ۴؍۱۶۴۱ ۔