کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 95
كان فيه ؟ ! قال : إذا جاءَكم مَن تَرْضَوْن دينَه وخلقَه فأَنْكِحوه))[1] ’’جب تمھارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کردو،اگر ایسا نہیں کرو گےتو زمین پرفتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اور اگر اس میں(کوئی ایسی ویسی بات) ہو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہوتو اس سے نکاح کردو،تین مرتبہ فرمایا۔‘‘ امام ترمذی نے کہا:یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ابوداود میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوہند رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تالو میں سینگھی لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((يَا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وانْكِحُوا إِلَيْهِ))[2] ’’اےبنو بیاضہ!ابوہند کو رشتے دو اور اس سے رشتے لو۔‘‘ اسے امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا اور’’حسن‘‘ کہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کنواری لڑکی سے اجازت،بیوہ سے مشورہ اور حصول رضامندی ضروری ہے،اگرچہ لڑکی عجمی اور لڑکا قریشی ہی کیوں نہ ہو،کیونکہ اس بارے میں احادیث عام ہیں۔(اللجنة الدائمة:2513) [1] ۔ حسن سنن الترمذي ،رقم الحديث (1085) [2] ۔ حسن سنن أبي داود،رقم الحديث (2102)