کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 85
ایسی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں کہ لڑکی کو مجبور کیا جائے،یا بالفاظ دیگر شریعت یہ اجازت نہیں دیتی کہ عورت کی شادی ایسے شخص سے کردی جائے جسے وہ ناپسند کرتی ہے۔اور شریعت اس بات سے بھی روکتی ہے کہ عورت کے مال سے بغیر اجازت کے کوئی چیز فروخت کی جائے یا اس کی جائیداد میں سے کوئی چیز بطوراجرت لی جائے۔اس مناسبت سے میں اپنے ان بھائیوں کو جو عورتوں کے سرپرست ہیں،دو بڑی بڑی ممنوع چیزوں سے روکوں گا،ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ عورت کو ایسے شخص سے نکاح پر مجبور کرنا جسے وہ پسند نہیں کرتی، شرعی طور پر یہ یقیناً حرام ہے،الایہ کہ وہ بعد ازاں اجازت دیدے ۔ اور دوسری ممنوع چیز یہ ہے کہ عورت کو پسند اور برابر کے آدمی سے شادی سے روکنا،بعض سرپرست لڑکیوں پر جبر کرتے ہیں، شادی کے بارے وہ اپنی خواہش کو مد نظر رکھتے ہیں اور ان کی چاہت کو درخوراعتناء نہیں سمجھتے، آپ دیکھتے ہیں کہ پہلے تو ان کی زیر ِسرپرستی لڑکی کی منگنی ہو جاتی ہے،لیکن بعد میں یہ رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور شادی کا موقع ہی نہیں آتا،اس دوران ان سے مشورہ تک نہیں لیا جاتا، اسے معلوم کروائے بغیر ہی وہ لڑکے کو جواب دے دیتے ہیں،ایسے سرپرستوں کی شکایات بہت زیادہ ہیں،وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں وغیرہ کی منگنیاں کرتے ہیں لیکن پھر شادیاں نہیں کرتے، حالانکہ لڑکا دین واخلاق میں برابر کا ہوتا ہے،ایسے لوگ دو ممنوع کاموں کے مرتکب ہیں۔ 1۔پہلا کام یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سرگردانی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلاَّ تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ))[1] [1] صحيح ،سنن الترمذي ،رقم الحديث (1085)