کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 83
سے ہے،یہ شرعی نکاح نہیں ہے،عورت خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی،بلکہ اس کا سرپرست ہی اس کی شادی کرے گا۔ (الفوزان :المنتقيٰ:140) 67۔لڑکی کو بتائے بغیر اس کی شادی کرنا۔ لڑکی کو بتائے بغیر اس کی شادی کرنا حرام ہے،اس طرح نکاح درست نہیں،الا یہ کہ وہ بعد ازاں اس کی اجازت دیدے ،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، صلي اللّٰه عليه وسلم وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ))[1] ’’کنواری لڑکی کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے اور بیوہ کا نکاح بغیر اس سے مشورے کے نہ کیا جائے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس(کنواری لڑکی)کی اجازت کیسے لیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر کرنے سے منع فرمادیا ہے،اور یہ حدیث عام ہے، سرپرست باپ ہو یا کوئی اور سب کو شامل ہے،بلکہ صحیح مسلم میں اس حوالے سے باپ اور کنواری لڑکی کے لیے بطور نص یہ حکم موجود ہے کہ باپ پر اس سے اجازت لینا واجب ہے،چنانچہ یہی قول راجح ہے کہ کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں،چاہے اس کا سرپرست باپ ہی کیوں نہ ہو،جب اس سے اجازت لی جائے تو لڑکے کے متعلق ایسے انداز سے [1] ۔متفق عليه۔صحيح البخاري (5136) صحيح مسلم (64/1419)