کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 78
’’جب تمھارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کردو۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ))[1] ’’بغیر سرپرست اور دو عادل گواہوں کے کوئی نکاح نہیں۔‘‘ 54۔باپ کا اپنی بیٹی کو شادی پر مجبورکرنا۔ باپ اپنی بیٹی کو مجبور نہیں کرسکتا،لیکن بیٹی کو چاہیے کہ اگر اس کا باپ اس کی خیرخواہی کر رہا ہے اور نیک اور برابر کا رشتہ منتخب کر رہا ہے تو وہ اپنے باپ کی نا فرمانی نہ کرے،رہا مجبور کرنے کا مسئلہ تو اگر لڑکی بیوہ ہے تو بالا تفاق مجبور نہیں کر سکتا اور اگر کنواری ہے تو بھی صحیح قول کی روشنی میں مجبور نہیں کر سکتا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔ (الفوزان:المنتقيٰ:134) 55۔کتابیہ عورت کا سرپرست کون ہے؟ اس کا سر پرست بھی وہی ہے جو مسلمان عورت کا ہے، یعنی باپ کی جہت سے رشتہ دار،ان میں سب سے قریبی باپ ہے، پھر دادا اور اسی جہت سے اوپرتک صرف مرد،بھی پھر اس کا بیٹا، پھر پوتا اور اسی جہت سے نیچے تک۔ جو عورت کے زیادہ قریب ہے وہ سرپرستی کا زیادہ حقدار ہے، پھر وراثت کے حساب سے باقی خونی رشتہ دار۔ (اللجنة الدائمة: 12087) [1] صحيح۔سنن الطبراني في الأ وسط (5564)