کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 77
52۔عورت نے اپنے ماموں کو وکیل بنایا،وہی اس کا سرپرست بھی بنا اور اس کی شادی کردی۔ اس طرح نکاح درست نہیں،کیونکہ ماموں سر پرست نہیں بن سکتا، نہ ہی عورت خاوند کو وکیل بنا سکتی ہے اور نہ ہی وہ خوداپنی سرپرست بن سکتی ہے،چنانچہ یہ سارا عمل تحریر، دستخط اور گواہی ان کی کوئی قیمت نہیں۔ اور لازم ہے کہ عورت کا نکاح اس کا سرپرست کرے،یعنی جو باپ کی طرف سے سب سے قریب ہے،اگرچہ اس سے دورہی رہتا ہو،اگر کوئی ایسا رشتہ دار نہ ہو توپھر حاکم شہر اس کا سر پرست بنےگایا پھر شرعی عدالت کا قاضی۔ (الفوزان:المنتقيٰ:143) 53۔کیا عورت جس سے چاہے خود اپنی شادی کر سکتی ہے؟ عورت کے لیے جائز نہیں کہ خود اپنی شادی کرے، اگر خود اپنا نکاح کرے گی تو جمہورسلف و خلف اہل علم کے نزدیک اس کا نکاح باطل ہوگا،کیونکہ شادی کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خطاب عورتوں کے سرپرستوں سے کیا ہے۔فرمایا: (( وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ)) (النور:32) ’’اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں،عورتوں کا نکاح کردو اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں سے جو نیک ہیں ان کا بھی۔‘‘ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے: ((إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ ))[1] [1] حسن،سنن الترمذي ،رقم الحديث (1085)