کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 76
((إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلاَّ تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ))[1] ’’جب تمھارے پاس وہ شخص آئے کہ جس کے اخلاق اور دین کو تم پسند کرتے ہوتو اس سے نکاح کردو، وگرنہ زمین پر فتنہ اور لمبا چوڑافساد پھیل جائے گا۔‘‘ ایسا آدمی کہ جسے لڑکی کا باپ پسند نہیں کرتا لڑکی کو بھی اس سے شادی کرنے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ اس کا باپ زیادہ گہری نظر سے دیکھتا ہے،اور ممکن ہے اس سے شادی نہ کرنے میں ہی بھلائی ہو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ )) (البقرۃ:216) ’’اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو۔‘‘ اور اس پر لازم ہے کہ نیک خاوند کے انتخاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ (الفوزان:المنتقيٰ:139) 51۔عورت نے اپنے پھوپھو زاد کو وکیل و سر پرست بنا کر عدالت کے ذریعے شادی کر لی،عدالت نے بھی موافقت کی۔ عورت خود کسی کو وکیل نہیں بنا سکتی،وکیل تو وہی بنا سکتا ہے جو سرپرست ہو، چنانچہ ضروری ہے کہ وکالت عدالت کی طرف سے ہو نہ کہ لڑکی کی طرف سے،اگر معاملہ ایسے ہی ہے،جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ اس نے اپنے پھوپھوزاد کو وکیل بنا لیا اور نکاح ہوگیا تو یہ نکاح درست نہیں،اس کا اعادہ ضروری ہے،اس طرح کہ وہ اپنے سر پرست کے ساتھ عدالت میں جائے اور عدالت معاملے میں غورو فکر کرے۔واللہ اعلم۔ (الفوزان:المنتقيٰ:142) [1] صحيح ،سنن الترمذي ،رقم الحديث (1085)