کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 75
وجہ سے ہوا ہے۔اور اس دوران جو اولاد پیدا ہوئی وہ انھیں دونوں کی متصورہوگی۔ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،ص:25) 49۔عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی۔اس میں کیا حکمت ہے؟ یہ معلوم ہی ہے کہ عورت سخت جذباتی اور ناقص العقل ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ))[1] ’’کم دین اور عقل والیوں میں سے میں نے کوئی ایسی نہیں دیکھی جو تم سے بڑھ کر عقلمند آدمی کے ہوش وحواس اڑادینے والی ہو۔‘‘ جب یہ سخت جذباتی،کم سمجھ بوجھ والی اور وسیع النظر نہیں ہے تو یقیناً دھوکہ کھا جاتی ہے اور ایسا شخص اس سے نکاح کر لیتا ہے جو نااہل ہے، تب فرحت وانبساط اور خوشی کی جگہ بدبختی اور ندامت آجاتی ہے،چنانچہ شرعی حکمت یہی ہے کہ عورت بغیر سرپرست کی اجازت کے نکاح نہ کرے۔(ابن عثيمين :نور علي الدرب،ص:28) 50۔باپ کی اجازت کے بغیر دوشیزہ کا نکاح۔ عورت کے لیے جائز نہیں کہ باپ کی اجازت کے بغیر نکاح کرے،کیونکہ وہ اس کا سرپرست ہے اور وہ اس کی نسبت بہتر دیکھ سکتا ہے،لیکن باپ کے لیے بھی جائز نہیں کہ نیک اور برابر کے آدمی سے شادی کرنے پر بیٹی کے لیے رکاوٹ بنے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: [1] صحيح البخاري ،رقم الحديث (298) صحيح مسلم ،رقم الحديث (79)