کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 74
پھر سوتیلا چچا،پھر حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا،پھر اگر وہ آزادکردہ ہے توولاء(وہ تعلق جو آقا اور غلام کے مابین آزادی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے)یااگراسے کسی پر یا کسی کو اس پر یہ نسبت ولاء حاصل ہوتو وہ سر پرست بنے گا، پھر حکمران کہ جسے کنٹرول حاصل ہو یا اس کا نائب ہو۔عورت کے کسی ایسے رشتہ دارکو سرپرستی نہیں مل سکتی کہ جو ماں کی نسبت سے تعلق دار ہے،چنانچہ ماں کے باپ کو،ماں کی طرف سے بھائی کو اور ماموں وغیرہ کو سرپرست نہیں بنایا جا سکتا۔ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،ص:28) 48۔مطلقہ عورت کا ایجاب وقبول کے ساتھ سرپرست اور گواہوں کے بغیر نکاح کرنا۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ شادی درست نہیں،کیونکہ اس میں سرپرست موجود نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (لا نكاح إلا بولي)[1] ’’بغیر سرپرست کے نکاح نہیں۔‘‘ لیکن بعض اہل علم یہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت بالغ، عقلمنداور آزاد ہو،اور ایسے علاقہ میں رہتی ہو جو لوگ بغیرسرپرست کے نکاح کو درست سمجھتے ہیں تو اس کا نکاح ہے،اس بناء پر کہ عوام کا مذہب وہی ہوتا ہے جو اس علاقے کے علماء کا ہوتا ہے،اور اگر وہ ایسے علاقے میں رہتی ہے کہ جہاں بغیر سرپرست کے نکاح درست نہیں سمجھا جاتا تو پھر لازم ہے کہ اپنے خاوند سے علیحدہ ہو جائے اور نئے سرے سے نکاح کرے، اور جو کچھ ہو چکا اس کی معافی ہے،کیونکہ یہ شبہے کی [1] صحيح ،سن أبي داؤد (2085) سنن الترمذي (1101) سنن ابن ماجه(1881)