کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 73
نہیں حکمران اس کا سر پرست ہے۔‘‘ مندرجہ بالا دونوں احادیث کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ پانچوں نے بیان کیا ہے اور دوسری کو امام ابوداؤد طیالسی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے۔ اس کے الفاظ درج ذیل ہیں: (( لا نكاح إلا بولي ،أيما امرأةٍ نُكحتْ بغيرِ إذنِ وليِّها ؛ فنكاحُها باطلٌ, باطلٌ, باطلٌ فإنْ فإن لم يكن لها ولي فالسُّلطانُ وليُّ من لا وليَّ لهُ ))[1] ’’بغیر سرپرست کے نکاح نہیں ہے،اور جو عورت بھی سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے،باطل ہے، اگر اس کا سر پرست نہ ہو تو حکمران اس کا سرپرست ہے جس کا کوئی سرپرست نہ ہو۔‘‘ امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’اس مسئلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔‘‘ (اللجنة الدائمة: 1273) 47۔عورت کا سر پرست بننے کا زیادہ مستحق کون ہے؟ عورت کا باپ اور اسی جہت سے اوپر تک یعنی اس کا دادا وغیرہ زیادہ سرپرستی کے حقدار ہیں،اگر یہ نہ ہوں تو پھر عورت کا بیٹااور اسی جہت سے نیچے تک یعنی اس کا پوتا وغیرہ پھر اس کا حقیقی بھائی، پھر اس کا وہ سویتلا بھائی جو باپ کی طرف سے ہے، پھر اس کا حقیقی بھانجا، پھر سوتیلا بھانجا، پھر اس کا حقیقی چچا، [1] ۔صحيح،مسند الطيالسي ،رقم الحديث (1463)