کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 72
نکاح اور ولی(سرپرست)کے مسائل 46۔سرپرست کے بغیر عورت کا نکاح۔ سرپرستی صحت نکاح کی شرائط میں سے ہے،کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ بغیر سرپرست کے نکاح کرے،اگر کرے گی تو اس کا نکاح باطل ہوگا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((لا نكاح إلا بولي))[1] ’’نکاح ولی کی اجازت ہی سے ہوتا ہے۔‘‘ اور دوسری حدیث میں ہے کہ بےشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل ، فنكاحها باطل ، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها ، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له .))[2] ’’جو عورت بھی سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے،اس کا نکاح باطل ہے،اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے،اگر آدمی اس کے ساتھ ہم بستری کرے تو اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کی وجہ سے مہر ادا کرے گا۔اگر جھگڑاڈالیں تو جس کا کوئی سر پرست [1] ۔صحيح۔سنن أبي دااود(2085) سنن الترمذي (1101) سنن ابن ماجه(1881) [2] ۔ صحيح۔سنن أبي دااود(2083) سنن الترمذي (1802)