کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 69
42۔حق مہر کی خاطر قرض لینا۔ شادی کا ارادہ کرنے والے کے پاس اگر مال نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ رقم قرض لے لے جبکہ ادائیگی کی نیت ہو۔ (اللجنة الدائمة: 10322) 43۔لڑکے کا لڑکی کے باپ سے خرچ لینا تاکہ شادی کے اخراجات پورے کرسکے۔ یہ جائز ہے،اور مشروع ہے کہ خاوند بیوی کے لیے بوقت نکاح حق مہر مقرر کرے، چاہے کم ہی ہو۔ (اللجنة الدائمة: 4086) 44۔حق مہر کے بغیر نکاح کا انعقاد۔ نکاح میں حق مہرکا ذکر کرنا اس کارکن نہیں ہے،اگر حق مہر ذکر کیے بغیر بھی عورت سے نکاح کر لیا جائے تو یہ درست ہے اور عورت کو حق مہر مثلی ملے گا،کم سے کم حق مہر کی کوئی حد نہیں ہے بلکہ علماء کے صحیح قول کے مطابق ہر وہ چیز جس کا قیمت بننا جائز ہے،اس کا حق مہر ہونا بھی جائز ہے،کیونکہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ))[1] ’’تلاش کر،اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔‘‘(اللجنة الدائمة: 10934) [1] ۔صحيح ،سنن النسائي،رقم الحديث (3359)