کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 68
اسے دیدے گا تو خود بغیر تہبند کے رہے گا،جا اور کوئی چیز تلاش کر۔‘‘اس نے کہا میرے پاس اور کوئی چیز نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ’’تلاش کر،اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔‘‘اس نے تلاش کیا مگر کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ))[1] ’’جتنا تجھے قرآن آتا ہے،بس اس کے عوض میں نے تیری اس کے ساتھ شادی کردی ہے۔‘‘ جس طرح کہ یہ بھی جائز ہے کہ قرآن مجید کا مصحف بھی بطور حق مہر پیش کیا جا سکتا ہے،کیونکہ علماء کے زیادہ صحیح فتوی کی روشنی میں مصحف کی خریدوفروخت جائز ہے۔(اللجنة الدائمة:6029) 41۔’’قائمہ‘‘ کا حکم۔ ’’قائمہ‘‘کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے؟’’قائمہ‘‘سے مراد ہمارے ہاں یہ لیا جاتا ہے کہ دولہا کی طرف سے شادی کے عہد و پیمان میں کچھ تحفظات نقل کیے جاتے ہیں،یا پھر دولہا کی جانب سے تو پیش نہیں کیے جاتے، لیکن انہی پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ’’مصالح مرسلہ‘‘ہیں تاکہ کوئی بھی اپنی ذمہ داری سے منحرف نہ ہو سکے؟ اگر معاملہ ایسے ہی ہو جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے تو شادی کے عہد وپیمان میں انھیں ذکر کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے،میاں بیوی دونوں کے دستخط لے لیے جائیں تاکہ اختلاف کے وقت خلع ہو سکے، نیز خاوند جو وثیقہ پیش کرے وہ واضح اور التباس سے خالی ہو۔ [1] ۔متفق عليه ،صحيح البخاري(5029) صحيح مسلم(76/1425)