کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 67
مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع کیاہے ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ سے اتار کر پھینک دی اور فرمایا: ((يَعْمَدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيجْعلهَا في يَدِهِ))[1] ’’تمہارا کوئی ایک آگ کے انگارے کا قصد کرتا ہے اور پھر اسے اپنے ہاتھ میں رکھ لیتا ہے!‘‘ آدمی کے لیے افضل ہے کہ چاندی کی انگوٹھی چھنگلی کے ساتھ والی انگلی میں پہنے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی انگلی میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:20/428) 40۔تعلیمِ قرآن کو عورت کا حق مہر مقرر کرنا۔ قرآن مجید کا کچھ حصہ عورت کا حق مہرمقرر کرنا درست ہے،جبکہ مرد کے پاس کوئی مال نہ ہو،کیونکہ صحیحین میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی،اس نے کہا:میں اپنی جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیےہبہ کرتی ہوں،کافی دیر وہ کھڑی رہی تو ایک آدمی نے کہا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اگر آپ کو ضرورت نہیں تو میری شادی اس کے ساتھ کر دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: )هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تُصْدِقُهَا(’’کیا تیرے پاس اس کے حق مہر کے لیے کچھ ہے؟‘‘اس نے کہا میرے پاس توصرف میرا تہبند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:))ِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ وَلاَ إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا((’’اپنا تہبند اگر [1] ۔ صحيح ۔صحيح مسلم(52/2090)