کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 59
24۔لڑکی کا باپ لڑکے سے حق مہر سے زائد مال کی شرط لگاتا ہے،وہ مال اس کاذاتی ہوگا نہ کہ حق مہر میں متصور ہوگا۔ عورت کا حق مہر اس کی ملکیت ہے اور جو اس کا باپ لڑکے کی رضا مندی سے مشروط طور پر لیتا ہے اس کی ادائیگی لڑکے پر لازم ہے،کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إنَّ أطيَبَ ما أَكَلتُمْ من كسبِكُم وإنَّ أموالَ أولادِكُم من كسبِكُم))[1] ’’یقیناً سب سے پاکیزہ جو تم کھاتے ہو وہ تمہاری کمائی ہے اور بے شک تمہای اولاد بھی تمہاری کمائی ہی ہے۔‘‘ لڑکی کے باپ نے اسے فروخت نہیں کیا بلکہ شرعی طریقہ سے اس کے ساتھ نکاح کیا ہے،لہذا یہ اس حدیث کی زَد میں نہیں آسکتا جس میں آزاد شخص کی قیمت کھانے کی تحریم واقع ہوئی ہے۔(اللجنة الدائمة:9450) 25۔آدمی کا دوسرے آدمی پر اپنی بیٹی کو صدقہ کرنا اور اسے حق شمار کرنا۔ ایک شخص کا دوسرے پر اپنی بیٹی کو بغیر حق مہر کے صدقہ کرناجائز نہیں ہے،یہ شادی صحیح نہیں ہوگی،لڑکا اگر یہ سمجھے کہ اس انداز سے حق مہر کی ادائیگی لازم نہیں آئے گی تو حق مہر مثلی لڑکی کو ملے گا،کیونکہ وہ اس کی ملکیت نہیں ہے۔حق مہر اس کے حقوق میں سے ہے،کتابھ وسنت میں وجوبِ حق مہر پر دلیل موجود ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: [1] ۔صحيح سنن ترمذي(1358) وسنن ابن ماجه(2290)