کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 57
((الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ)) [1] ’’مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ))[2] ’’جن شرطوں کی بنابریں تم شرمگاہوں کو حلال سمجھتے ہو یقیناً وہ زیادہ لائق وفا ہیں۔‘‘ جب طرفین متفق ہوجائیں کہ ساراحق مہر پہلے یا بعد میں ادا کردیا جائے یا کچھ پہلے اور کچھ بعد میں ادا کردیا جائے تو سب صورتیں جائز ہیں،لیکن کسی چیز کا بوقت نکاح نام لینا مسنون ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ((أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم)) (النساء:24) ’’جو ان کے سوا ہیں کہ ا پنے مالوں کے بدلے طلب کرو۔‘‘ سو حق مہر جیسی چیز کا نام لیا جائے،اگر وہ ایسا کرے تواچھا ہے اوراگر کہےکہ میرے ذمہ ہے کہ بعد میں حق مہر کی ادائیگی کردوں گا اور طرفین کو مقدار معلوم ہو تو کوئی مضائقہ نہیں،یاوہ کہے کہ بعد میں آدھا،تہائی یا چوتھائی حق مہر ادا کروں گا اور پہلے اور بعد والے کی وضاحت کردے تو بھی کوئی حرج نہیں ،الحمدللہ سب میں گنجائش ہے۔ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:21/89) 23۔عورت کے حق مہر کو مؤخر کرنا۔ تاخیر سے حق مہر کی ادائیگی میں کوئی حرج نہیں،یہ امر جائز ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: [1] ۔صحيح سنن أبي داؤد ،رقم الحديث (5349) [2] ۔متفق عليه ،صحيح البخاري (2721) صحيح مسلم(63/1418)