کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 382
((لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أنْ يَهْجُرَ أخاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ أيام))[1] ”اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دنوں سے زیادہ چھوڑے۔“ اور اگردین کی خاطر ہو بایں طور کہ وہ ظاہراً نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہو یا بدعتی ہو اور نصیحت اسے کارگرنہ ہوتو اسے چھوڑ سکتا ہے،جبکہ اس کے توبہ تائب ہونے کی اُمید ہو اور اگر واپسی کی کوئی اُمید نہ ہو بلکہ مزید شرکا خطرہ ہوتو اُسے مت چھوڑے،بلکہ مسلسل نصیحت کرتا رہے،شاید کہ اللہ اسے ہدایت دیدے،اس حالت میں چھوڑتے وقت مصلحت اور مفسدت دونوں کا خیال رکھا جائے گا۔(اللجنة الدائمة:15931) 476۔اسلام میں صلہ رحمی کا درجہ۔ صلہ رحمی واجب ہے جبکہ قطع تعلقی حرام ہے،کتاب وسنت کے دلائل اس پر شاہد ہیں،اگرصلہ رحمی سے کسی بُرے کام کا اندیشہ ہو،اگرتو اس کو ختم کرسکتا ہے تو صلہ رحمی کر اور بُرے کام کا خاتمہ کر اور اگر تو بُرائی کا خاتمہ نہیں کرسکتا تو جہاں صلہ رحمی کے نتیجے میں بُرائی پیداہوتی ہو اس تعلق کو قطع کردے اور دیگر رشتہ داروں سے خوش معاملگی استوار کر۔(اللجنة الدائمة:10795) 477۔صلہ رحمی کسی چیز سے مکمل ہوتی ہے؟ صلہ رحمی رشتہ داروں سے نیکی اور اچھے برتاؤ سے مکمل ہوتی ہے ،نیز ان کو ملنے کے لیےجانے اور ان کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھانے سے۔(اللجنة الدائمة:4917) [1] ۔متفق عليه۔صحيح البخاري(6065) صحيح مسلم(23/2559)