کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 379
473۔مشرک والدین سے نیکی۔ جیسے بھی ہوں وہ ان سے نیک اور اچھا برتاؤ کرے،اگرچہ وہ مشرکین کے ملک میں ہی رہتے ہوں،کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ کا عموم ہے: (( وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ )) (لقمان: 14) ” اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور دنیا میں اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہ۔“ اور اس کے علاوہ بھی آیات واحادیث کا عموم والدین سے نیکی کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ (اللجنة الدائمة:4461) 474۔ایک مسلمان گھر میں اجتماعی روابط۔ اللہ تعالیٰ نے ان امور کی محافظت کا حکم دیا ہے جن کی بنیاد پر خاندانوں اور جماعتوں کے باہمی روابط مربوط ومستحکم ہوتے ہیں،چنانچہ صلہ رحمی اور رشتہ داروں سے احسان کا حکم دیا ہے،فرمایا: ((وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا)) (النساء:1) ” اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور فرشتوں سے بھی،بے شک اللہ ہمیشہ تم پر پورا نگہبان ہے۔“